#63835
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته میرے عزيز بھائیوں اور بہنوں

اس مضمون کا اصل مقصد مشرقی سیاہ پرچم کی سچائی کا ثبوت پیش کرنا ہے اور یہ کہ امام احمد الحسن علیہ السلام نے ہی مشرقی سیاہ پرچم کو بلند کیا ہے۔

مقدمات اور مواد بلیک بینرز فارم (Blackbanners forum) سے لئے گئے ہیں۔ پیاری بہن نورھان القرش نے یہ قابل قدر موضوع لکھا ہے اور ہم ، اس کوشش کے لئے بہن کا بے شمار شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالی بہن پر رحم کرے. اور ان کا بھلا کرے اور ان کی تمام کوششوں کو قبول کرے۔ آمین یا اللہ

بلیک بینرز کا لنک :-
viewtopic.php?f=1&t=12

امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ " یہ دیکھو کے کیا کہا جارہا ہے ، یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے"۔ یہاں تک کہ اپ کا کسی کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی مسئلہ ہو یا آپ اس کے بارے میں اچھی رائے نہ رکھتے ہو ، اللہ سبحان و تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ، " اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ،" [سورہ 49 ( الحجرات ) ایات نمبر 6]۔
اللہ سبحان و تعالٰی نے یہ نہیں کہا کہ اگر کوئی فاسق شخص کوئی معلومات لائے تمھارے پاس اور تم کہو کہ "تم فاسق ہو اور میں تمھاری بات نہیں سننا چاہتا" بلکہ اللہ سبحان و تعالٰی نے کہا کے تحقیق کرو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔

امام احمد الحسن ع نے فرمایا : " آل محمد کے لئے زینت بنو اور ان پر بوجھ مت بنو، لوگوں کو رحمدلی سے سچائی سے آگاہ کرو اور ان کے ساتھ ایسے پیش آو کہ جیس طرح تم چاہتے ہو کے تمہارے ساتھ کوئی پیش آئے، ان کے اندر کے شیطان کو اچھے الفاظ سے قتل کرو۔ ان کے ساتھ بہترین بحث و مباحثہ کرو، اور مکمل ثبوت پیش کرو ، اور ان کے ساتھ سختی سے یا اسبیتا سے پیش نہ انا کہ تم شیطان کے مددگار نا بن جاؤ اور ان کی جاہلیت کا سبب نا بنو۔ اللہ تعالی نے فرمایا : { ( سبکو ) اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ سے بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو } [ سورہ 16 ( نخل ) آیات 125 ]۔

شروع کرنے سے پہلے ایک اہم پیغام ۔
" اللہ کی رحمت و سلام ہو تم پر میرے پاک و طاھر بھائیوں اور بہنوں، کہ تم نے حق کا ساتھ دیا ، صبر کرو اور صبر کا لباس پہن لو، احتیاط کرو کہ اللہ کے دشمن تمہیں نا اکسائے اور اپنے اخلاق و معیار کو کم مت ہونے دو عمر، ابوبکر اور عثمان کے اخلاق و کردار کی طرح۔ صبر کا دامن تھام لو کہ ان شاہ اللہ تم اللہ سبحان و تعالٰی کے اعلٰی ترین خادموں میں سے ہو۔ ہمیشہ یاد رکھو ( ایک نصیحت بلیک بینرز کے مومن کی طرف سے ) امیر المومنین علی علیہ السلام نے ابو ذر سے کہا " اے ابو ذر!  تم اللہ کے خاطر غصہ ہو گئے ہو تو جس کے خاطر غصہ آیا تمہیں اسی سے امید رکھو۔ لوگ تم سے اپنی دنیا کے لئے خوفزدہ ہیں اور تم اپنے دین کے لئے ، تو انکی پریشانی ان کے ہاتھوں میں چھوڑ دو اور کہ جس کے لئے تم پریشان ہوے ہو لوگوں سے دوری اختیار کرو۔ جو تم ان سے روکو گے ان کو بڑی ضرورت ہے اور جو یے تم سے روکتے ہیں اسکی تمہیں کوئی ضرورت نہیں۔ پھر انے والے کل مے تمہیں پتہ چلے گا کہ کون فاتح اور کون زیادہ قابل رشک ہے۔ اگر آسمانوں اور زمینوں کو اجتماع کریں ایک مومن پر اور وہ اللہ سے ڈرتا ہو، تو اللہ اس مومن کو ان سے خارج کر دیتا ہے!۔ اے ابو ذر، سوائے حق کے کسی چیز کی صحبت مے نہ رہنا، اور کوئی بھی چیز تمہیں تنہا نہ رکھے سوائے باطل کے۔ اگر تم ان کی دنیا قبول کرتے تو یہ تم سے محبت کرتے اور اگر تم انکی دنیا میں کوئی حصہ رکھتے تو یہ تمہیں پناہ دیتے"۔

اگر آپ کا دعوی ہے کہ آپ اللہ کو مانتے ہیں تو اللہ سبحان و تعالٰی نے کہا ہے { " اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ،" } [سورہ 49 ( الحجرات ) ایات نمبر 6]

اگر آپ کا دعوی ہے کہ آپ احمد الحسن علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں تو امام علیہ السلام نے فرمایا :
" میں ، اور میں انا سے پناہ مانگتا ہوں ، نے کسی سے یہ نہیں کہا کہ آنکھ بند کرکے میری پیروی کرو ، بلکہ میں کہتا ہوں کہ اپنی آنکھیں کھولو اور ثبوت پر غور کرو ، اور صاحب حق کو پہچانو کہ اس صورت میں خود کو جہنم کی آگ سے بچاؤ "

اور امام علیہ السلام نے فرمایا " اے لوگوں! ان گمراہی کے علماء کو تمہیں بیوکوف بنانے مت دو اور ان کے حامی نہ بنو۔ پڑھیں، ریسرچ کریں، جانچ پڑتال کریں، اور پھر سیکھیں خود سچائی کو معلوم کریں۔ کسی اور پر انحصار نہ کریں کہ وہ تمہاری آخرت کا فیصلہ کرے اور پھر تمہیں کل پچھتانا پڑے اور تب پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ ہو { اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کو مانا تو انہوں نے ہمیں راہ سے بہکادیا } [ سورہ 33 ( احزاب ) آیات 67 ]

مگر مکتب اور اسکے لوگ تمہیں کیا کہتے ہیں انصار اللہ؟
وہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ بلیک بینرز کے لوگوں کو بلاک کرو اپنے فرینڈز لسٹ سے ان کو ہٹاؤ اور ان کو نظر انداز کرو ، ان سے بحث و مباحثہ نہ کرو ، ان کے پوسٹز کو نہ پڑھو ، جانچ پڑتال نہ کرو ، مت سیکھو ، چھان بین مت کرو!

اور وہ جو خود کو انصار کہتے ہیں وہ ہمیں کچھ اس طرح سے جواب دیتے ہیں : " اگر مکتب کے لوگ کہتے ہیں کہ تم گمراہی پھر ہو ، تو تم گمراہی پھر ہو ، اور ہمیں تمہارے ثبوتوں کو سننے کی کوئی ضرورت نہیں !! "

مکتب کے لوگ کس نصاب کی پیروی کر رہے ہیں ؟

معصوم امام ع نے خود کہا ہے کہ امام نے کسی کو آنکھ بند کر کے امام کی پیروی کرنے کو نہیں کہا ہے ، بلکہ ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ پڑھو، ریسرچ کرو، جانچ پڑتال کرو، اور پھر سیکھو خود سچائی کو معلوم کرو اور کسی اور پھر انحصار مت کرو کہ وہ تمھارا فیصلہ کرے۔ اللہ سبحان و تعالٰی نے حکم دیا ہے کہ تحقیقات کرو جب کوئی تمہارے پاس معلومات لے کر آئے حتی کہ وہ بے دین فاسق و فاجر شخص ہو۔

مکتب والے افراد کہتے ہیں : " آنکھ بند کر کے ہماری پیروی کرو ، چھان بین مت کرو ، معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ، تحقیق کی ضرورت نہیں۔

تو کس نصاب کی پیروی کر رہے ہو اے انصار اللہ ؟
اللہ سبحان و تعالٰی کے نصاب کی امام احمد الحسن علیہ السلام کی نصاب کی ؟
یا پھر سامری اور اس کے بنائے ہوئے بچھڑے کی نصاب کی پیروی ؟
اللہ ان کی ہدایت کرے جو ہدایت چاہتے ہیں

{اللہ اپنے نور کی راہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے } [ سورہ 24 ( النور ) آیات 35 ]
Y- Yamani et Yawmiates (Mémoires).

Salam, Le récipiendaire. Y-13. Il est aussi[…]

N- Nostradamus.

Salam, Au détriment des associateurs. N-7. […]