#64882
ابتداء :-

بروز 23 جنوری 2015 ، کہ جس دن سعودی حاکم شاہ عبداللہ کی موت ہوئی ۔ 12 آدمیوں نے اس بات پر زور دیا کہ امام احمد الحسن علیہ السلام انھیں امام المہدی علیہ السلام سے ملاقات کے لئے لے گئے تھے ، اور امام المہدی علیہ السلام نے ان اشخاص کو امام احمد الحسن علیہ السلام کے خلاف کئے گئے سازش سے آگاہ کیا، کہ کس طرح مکتب نجف اور اس کے شیوخ امام علیہ السلام کے خلاف سازشیں کرتے رہیں ۔ اور یہ کہ ان شیوخ نے حکومتی دستاویز پر دستخط کیے ہیں کہ وہ امام علیہ السلام کو حکومت کے حوالے کردینگے ۔ مکتب کے شیوخ نے امام علیہ السلام کے حقوق غصب کئے ہیں اور شناخت کی تحریف کی ہے اور خود کو امام علیہ السلام کے بجائے درپیش کرتے ہیں ۔ امام مہدی علیہ السلام نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ امام احمد الحسن علیہ السلام سال 2008 سے مکتب والوں کے ساتھ موجود نہ تھیں اور یہ کہ امام احمد الحسن علیہ السلام نے اس مدت کے دوران خاموشی اختیار کر لی تھی ۔ امام علیہ السلام نے دیگر معاملات کا بھی ذکر کیا جن کا انشاءاللہ ہم دوسرے موضوعات میں بتائیں گے ۔ اس دن ان 12 آدمیوں نے امام حجت علیہ السلام کے ظہور کی خوشخبری دی اور اس بات کا اعلان کیا کہ امام احمد الحسن نے ہی یہ بشارت دی ہے اور اس سیاہ پرچم کو بلند کیا ہے کہ جو اہل البیت علیہم السلام کی احادیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ تو اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ ان اشخاص نے ملک عبداللہ کے ہلاک کے دن یہ بیان دیا ہے ؟ ۔ یہ ہے ایک یوٹیوب چینل کا لنک کہ جس پھر یہ بیان اپلوڈ کیا گیا ہے ، اور دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ویڈیو 23 جنوری 2015 کو اپلوڈ کیا گیا ہے ۔
https://www.youtube.com/watch?v=4bsCD2dWaHI

پر شاہ عبداللہ کے موت کے بعد یہ کیوں ضروری ہے کہ ان 12 لوگوں نے حجت علیہ السلام کے ظہور کی خوشخبری میں پہل کی ؟ وہ اس لئے کہ اس طرح سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام احمد الحسن علیہ السلام ان کے ساتھ ہیں اور وہ سچے ہیں ۔
کیوں ؟

اس حدیث کی طرف غور کریں :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : " حجاز پر ایک ادمی حکومت کرے گا جس کا نام جانور کا نام ہوگا ( ملک فھد - فھد عربی زبان میں تیندوے کو یہ چیتے کو کہتے ہیں ) دور سے دیکھنے پر اس کی آنکھوں میں فرق نظر آئے گا پر نزدیک سے اسکی آنکھوں میں کوئی فرق نہ ہوگا ۔ اس کے بعد اس کا بھائی حکومت کرے گا جس کا نام عبداللہ ہوگا ۔ اس سے میرے شیعہ پر افسوس ( رسول ص نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا ) مجھے اس کے موت کی بشارت دو تو میں تمہیں ظہور حجت کی بشارت دونگا " - ( کتاب 250 علامات صفحہ 122 )


یہ حدیث بخود ہی ایک معجزہ ہے ۔ یہ ہر ایک تفصیل سے حقیقت میں پیش ایا ہے ۔ سعودی عرب کا بادشاہ ملک فھد جس کا نام جانور کا نام ہے ( تیندوا ) ، اور جس کی آنکھوں کی یہ عجیب حالت ہے کہ اگر دور سے دیکھتے تھو بھینگی نظر آتی ہیں اور قریب سے عام لگتی ہیں ، اور پھر اس کی موت ہوئی ، پھر اس کا بھائی ملک عبداللہ حجاز کا حاکم بنا اور اس کی حکومت کے دوران شیعہ انتہائی مظلوم تھے ۔ تو اس حدیث کے آخری حصے کی طرف اگر دیکھیں تو رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اس ( شاہ عبداللہ ) کے موت کی بشارت دو تو میں تمہیں ظہور حجت کی بشارت دونگا "

بلیک بینرز ( سیاہ پرچم ) اس پر زور دیتے ہیں کہ حجت علیہ السلام کی بشارت دینے والوں کو سچا ہونا چاہیئے ( جیسے امام احمد الحسن علیہ السلام اور اہل البیت علیہم السلام کہتے ہیں کہ وصیت کا پہلا مدعی ہی اس کا صاحب ہے ۔ کیونکہ اس امر کا دعوٰی صاحب کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا ) اور اس کا یہی طریقہ ہے ، کیوں ؟ کیونکہ شاہ عبداللہ کی موت کی حدیث میں ، رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا " مجھے اس ( شاہ عبداللہ ) کے موت کی بشارت دو تو میں تمہیں ظہور حجت کی بشارت دونگا " ۔ تو محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علاوہ کوئی اور حجت کے ظہور کی بشارت نہیں دے سکتا ، پر محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اس زمانے میں جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ۔ تو وہ کون ہے جو اس زمانے میں محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نمائندگی کرتا ہے ؟ احمد الحسن علیہ السلام ، کہ جس کا نام رسول اللہ کے نام کی طرح ہے اور جس کے والد کا نام رسول اللہ کے والد کے نام کی طرح ہے ۔ تو اس کا مطلب کہ پہلے جو دعوٰی کرے اور عبداللہ کی موت کے بعد ظہور حجت کی بشارت دے وہ امام علیہ السلام کے ساتھ مربوط ہے اور امام کی جانب سے بول رہا ہے ، کیونکہ محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس بشارت کے عمل کو خود پر منسوب کیا ہے ، اور کوئی اور اس عمل کو انجام نہیں دے سکتا ، اور وہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم عبداللہ کی موت پر جسمانی طور پر موجود نہیں ، تو صرف وہی جو آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جگہ کھڑا ہو اس زمانے میں اس عمل کو انجام دے سکتا ہے ۔

اور امام صادق علیہ السلام کی حدیث کچھ اس طرح بیان کرتی ہے ۔ { ابی بصیر نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ : " جو کوئی مجھے عبداللہ کے موت کی ضمانت دے ، میں اسے قائم کی ضمانت دونگا ۔ جب عبداللہ کی موت ہوگی ، لوگ اس کے بعد کسی ایک پر متفق / مجتمع نہیں ہوں گے ، اور یہ امر تمہارے صاحب ( قائم علیہ السلام ) کے علاوہ کسی اور کے ہاتھوں ختم نہ ہو گا انشاءاللہ ۔ سالوں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی ، مہینوں اور دنوں کی بادشاہت بن جائے گی " ۔ تو میں نے پوچھا : " کیا اس کے بعد زیادہ وقت لگے گا " ، امام نے کہا : " نہیں " ( بہار الانوار جز 52 صفحہ 21 ) }

تو امام صادق علیہ السلام ہمارے لئے ضمانت دے رہے ہیں کہ ظہور حجت علیہ السلام کو عبداللہ کی موت کے بعد زیادہ وقت نہ لگے گا ۔
اور واقعی ان بارہ آدمیوں نے بروز 23 جنوری 2015 کہ جس دن شاہ عبداللہ کی موت ہوئی اس بات کی تصدیق کی کہ ، اسی دن امام احمد الحسن علیہ السلام ان میں سے 10 کو لے کر گئے اور ان میں 2 اور آدمیوں کا اضافہ کیا ، اور پھر ان 12 آدمیوں کو امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کے لئے لے گئے اور یہ 12 آدمی احمد الحسن علیہ السلام کے بعد 313 آدمیوں میں سے بہترین اصحاب ہیں ( 313 اصحاب القائم ) ۔ اور امام احمد الحسن علیہ السلام نے سیاہ پرچم کو بلند کیا ہے کہ جیسے اہل بیت کے احادیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ اور امام احمد الحسن علیہ السلام نے ظہور امام حجت محمد مہدی إبن الحسن العسکری علیہ السلام کی بشارت دی ہے ۔

امام احمد الحسن علیہ السلام کے کتاب " تعلیمی حوزہ کے طالب علموں اور تمام سچائی کے متلاشیوں کے لئے ایک نصیحت " ( An advice to the students of academic hawza and all truth seekers ) میں امام نے یہ حدیث بیان کی ہے ۔
{ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : " صاحب امر ان راستوں سے ہوتا ہوا غیبت میں جائے گا " اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ذی طوء کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا : " اسکے قیام سے پہلے مولا جو اس کے ساتھ تھا اگے بڑھے گا ، یہاں تک کہ اسکے چند اصحاب سے ملاقات کرے گا اور ان سے پوچھے گا ''' تم کتبے أفراد ہو ''' اور وہ کہیں گے ''' ہم چالیس لوگ ہیں ''' پھر وہ پوچھے گا ''' اگر تم اپنے صاحب کو دیکھ لو تو کیا کرو گے ؟ ''' وہ کہیں گے ''' باخدا !! اگر وہ یہاں سے جا کر کسی پہاڑ میں پناہ لے تو ہم ان کے ساتھ ہونگے ''' پھر وہ ان کے پاس ائے گا اور کہے گا ''' اپنے میں سے دس بہترین افراد / سرداروں کو منتخب کرو ''' وہ ان کے لئے انتخاب کریں گے اور وہ ( مولا ) ان کو اپنے ساتھ صاحب ( امام مہدی ) کے پاس لے جائیےگا ۔ وہ اگلی رات کا ان سے وعدہ کرے گا ( یا ان سے اگلی رات ملاقات کرے گا ) " غیبت النعمانى ، صفحہ 187 ۔ تفسیر العیاشی جز 2 صفحہ 56 ۔ بہار الانوار جز 52 صفحہ 341 ۔ معجم احادیث الامام المہدی جز 5 صفحہ 2 }

امام الصادق علیہ السلام نے فرمایا : " قائم تب تک ظہور نہ کریں گے جب تک بارہ آدمی یہ نہیں کہیں کہ انھوں نے اسے دیکھا اور لوگ انھیں جھٹلاتے ہیں " ۔ غیبت النعمانى صفحہ 277 ۔
Ha- Houmaza, Calomniateurs.

Salam, Des calomniateurs. Ha-1. Al-Houmazah[…]

L- La Mère des Cités.

Salam, La Montagne des Montagnes. L-6. Il e[…]