رجعت

اس فورم میں آپ اردو میں موضوعات کا تبادلہ اور تبادلہ خیال کرسکتے ہیں

Moderator: Shana

Post Reply
MoonlitKnight14
Posts: 6
Joined: Sun Jul 12, 2020 8:26 pm

زرارہ کہتا ہے، میں نے امام جعفر الصادق علیہ السلام سے رجعت اور اور اس کے جیسے اور عظیم معاملات کے متعلق دریافت کیا۔ " یقینا جس چیز کا تم نے سوال کیا ہے اسکا وقت ابھی نہیں آیا ہے، بلکہ وہ لوگ انکار کرچکے اس چیز کا جسکا ادراک وہ نہیں رکھتے، اور جسکی تاویل ابھی تک نہیں ہوئی۔"
-بہارالانوار/40



جمیل بن دراج سے روایت ہے اس نے کہا کہ میں نے امام الصادق علیہ السلام سے دریافت کیا خدا کے اس کلام کے متعلق: 'بالیقین ہم اپنے پیغمبروں اور مومنوں کی اس دنیا اور اس دن نصرت کرینگے جب شاہد قیام کرے گا-' (40:51)
انہوں نے فرمایا، "با خدا یہ 'الرجعہ' میں ہوگا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ بہت سے پیغمبروں کی اس دنیا میں نصرت نہیں کی گئی اور ان کا قتل کیا گیا، اور آئمہ کو قتل کیا گیا اور مدد نہ کی گئی لہذا یہ 'رجعت' میں ہوگا۔
میں نے کہا 'اس دن جب پکارنے والا ایک قریبی جگہ سے پکارے گا، وہ دن جب وہ ایک چیخ سنیں گے یقینا اس دن وہ نکل آئینگے۔' قرآن
امام نے جواب دیا، یہ رجعت ہے۔
-مختصر بصائرالدرجات

امام احمد الحسن علیہ السلام فرما تے ہیں، "رجعت کی دنیا اس دنیا سے الگ کوئی اور دنیا نہیں ہے۔ ہم اسوقت زمانہ رجعت میں ہیں اور ہر دور میں رجعت ہوئی ہے اور رجعت کا سلسلہ رکا نہیں۔
مگر اس بار بالخصوص اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ دوبارہ نہیں آیگا کیوں کہ تمام رسول اور پیغمبر، اوصیاء اور پارسا جمع کیے گئے ہیں۔"

امام جعفر الصادق علیہ السلام نے مفضل سے فرمایا،
"تم 44 افراد کے ہمراہ حضرت قائم علیہ السلام کے ساتھ ہوگے، تم امام کے دائیں جانب ہوگے امر معروف و نہی عن المنکر کرتے ہوئے یہ زیادہ یقین کرینگے۔" - دلائل امامہ صفحہ نمبر 248، اثبات الہدی جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 573


امام علی علیہ السلام نے فرمایا، "اصحاب کہف امام مہدی علیہ السلام کی نصرت کے لئے آئیں گے۔" - ارشاد القلوب، صفحہ نمبر 286

مفضل ابن عمر سے روایت ہے کہ امام جعفر الصادق علیہ السلام نے فرمایا، "قائم آل محمد کے قیام کے وقت کچھ لوگ پشت کعبہ سے آیئنگے، جیسا کہ موسی علیہ السلام کی قوم سے 27 افراد جو کہ طور پر فیصلے جاری کرینگے۔ 7 اصحاب کہف، یوشع، موسی کی وصیت کو نبھانے والا، مومن آل فرعون، سلمان الفارسی، ابو دجانہ انصاری، اور مالک اشتر۔"
روعضہ الواعظین جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 55

امام جعفر الصادق علیہ السلام نے فرمایا، "رداوی کے پہاڑوں میں مومنوں کی ارواح اہل بیت کو دیکھ سکتی ہیں۔ ان کے کھانے سے نوش کرتی ہیں، ان کے مشروب سے پی لیتی ہیں، انکی مجالس میں شمولیت اختیار کرتی ہیں۔ اور ان سے مخاطب ہوتی ہیں یہاں تک ہم اہل بیت میں سے قائم کا قیام ہوتا ہے۔ اس وقت خدا ان ارواح کو جوش دلائگا۔ وہ اس کی پکار کو سنیں گے جوق در جوق اور اسکا ساتھ دینگے۔ اس وقت فاسد عقائد رکھنے والے شک میں پڑ جایئنگے۔ اور عالم ہونے کے دعویداروں کے گروہ، جماعت اور ان کے ہمراہ چلنے والے لوگ منتشر ہوجائیں گے جبکہ اللہ کے مقرب اور مومنین کو نجات مل جایئگی۔" - الکافی جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 131، بحارالانوار جلد نمبر 27، صفحہ نمبر 308
Post Reply